26 جولائی 2015 - 15:27
جماعت اسلامی ہند بیدر کا عید ملن پروگرام، مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی شرکت

سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے گیانی درباراسنگھ جی نے عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آج دنیا میں نفرت کا بول بالا ہے، سبھی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ایسے میں ہمیں مذہبی تعلیمات کی طرف آنا ہوگا۔ بسواشری سدرامیشور شرن بیلداڑجی نے رمضان کے بارے میں بتایا کہ رمضان مبارک مہینہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لنگایت مذہب کے دھرم گرو سوامی بسوالنگا پٹہ دیورو نے جماعت اسلامی ہند بیدر کے ’’عید ملن‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سچ مچ خوشی کا دن ہے کہ ہم آپس میں مل بیٹھے ہیں اور یہی حقیقت ہے کہ ہم سب کا خدا ایک ہے اور تمام مذاہب ایک خدا کو مانتے ہیں، لیکن اگر ہم اپنے دل میں بسے کھوٹ کو ہٹاکر پریم اور پیار سے ایک دوسرے کی باتوں کو سنیں تو پیار، بھائی چارہ اور امن و شانتی کی راہ نکل آئے گی۔ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے گیانی درباراسنگھ جی نے عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ آج دنیا میں نفرت کا بول بالا ہے، سبھی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ایسے میں ہمیں مذہبی تعلیمات کی طرف آنا ہوگا۔ بسواشری سدرامیشور شرن بیلداڑجی نے رمضان کے بارے میں بتایا کہ رمضان مبارک مہینہ ہے۔ رمضان ہم سب کو ایکتا کا پیغام دیتا ہے۔ جبکہ ہم ذات، دھرم، بھاشا بھید، غریب امیر کے نام پر الگ الگ زندگی کررہے ہیں، ضرورت ہے ایکتا و وحدت کی، اسلام شانتی کی بات کرتا ہے۔

بودھ دھرم کے شری بھنتے ویرجیوتی جی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ہم سب ایک ہیں اور ہم تمام کو ایک رہنا ہوگا، مولانا محمد فہیم الدین سابق رکن مجلس شوری جماعت اسلامی کرناٹک نے اپنے خطاب میں مختلف امور پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دو قطرے آنسو توبہ کے آنکھوں سے ٹپک پڑیں تو آسمان سے موسلادھار بارش ہو۔ بعد از اں انہوں نے ملک میں شراب اور سود کی بڑھتی لعنت کو ختم کرنے کے لئے تمام مذہبی لیڈران اور قائدین کو مل جل کر آگے بڑھنے کے لئے آواز دی اور کہا کہ آئیں ہم تمام ملک میں شراب پر پابندی کے لئے آواز اٹھائیں۔ امین الحسن نے وزیراعظم ہند نریندر مودی کے بیرون ملک دوروں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دوروں سے عوام کی خدمت نہیں ہورہی ہے۔ دوسر ی جانب گھر واپسی، لو جہاد اور یوگا کے مسائل اٹھاکر ہندوؤں اور مسلمانوں کو الجھایا جارہا ہے۔

.......

/169